اشاعتیں

اگست, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

تھا حقیقت وہ کوئی خواب نہیں

تھا حقیقت وہ کوئی خواب نہیں  زندگی تھا کوئی سراب نہیں  عمر بھر کھوجتے رہے گو مگر کچھ سوالات کا جواب نہیں  خواہشوں کی زمین بانجھ ہوئی  چشمِ دیدہ میں کوئی خواب نہیں  زندگی ہوگئی عذاب مگر جی رہا ہوں کہ انتخاب نہیں  ڈھونڈتے یاد کی کتاب میں کیا کوئی رکھا کہیں گلاب نہیں  اس نے لکھ دی کتاب یاد بہ یاد بس مرے نام انتساب نہیں  اتنا مصروف ہوں میں فرقت میں یعنی خود کو بھی دستیاب نہیں  تھے بریدہؔ مزاج پہلے بھی  اب جو ہے بے دلی حساب نہیں ندیم بریدہؔ 

وصل دے، رد غمِ ہجراں کر دے

وصل دے ، رد غمِ ہجراں کر دے مضطرب ہوں منِ یزداں کر دے رات کو دن سے بدلنے والے  میرے حالات بھی شاداں کر دے موت  بہتر ہے ، اگر آ جائے ورنہ  جــینا  مجھــے آساں کر دے کیوں کسی اور کے در پر جاؤں تو ہی اس درد کا درماں کر دے میں نے کب قیصر و کسریٰ مانگے  بس شب و روز کا ساماں کر دے ایسے افلاس سے مانگی تھی  پناہ چھینے دستار جو عریاں کر دے #ندیم_بریدہؔ

آنکھیں میری، خواب مگر سب اس کے تھے

آنکھیں میری خواب مگر سب اس کے تھے  بزم تھا میں، احباب مگر سب اس کے تھے ان سب کی ، پہچان لہو سے تھی میرے بچوں میں آداب مگر سب اس کے تھے بس میں نے تحریر کیا "دل" ساحل پر اس پر بھی اعراب مگر سب اس کے تھے کیا دیپک، ملہار یہ سب کیا میں تو بس اک تارا، مضرابِ مگر سب اس کے تھے میں تو بس عنوان تھا اک افسانے کا تفصیلاً ابواب مگر سب اس کے تھے سب کو تھی درپیش مسافت کہنے کو پیروں میں گرداب مگر سب اسکے تھے #ندیم_بریدہؔ
 اب نہیں ہوگی محبت کی تجارت مجھ سے میری تحــــــــــــریر سراہو نہ سراہو چاہے #ندیم_بریدہؔ

دیدۂ شوق، خواب آنے تک

 دیدۂ شوق،  خواب آنے تک شوخ تھی، ز یرِ آب آنے تک مضطرب ہیں، جواب   آنے تک مر نہ جائیں،  جناب آنے تک رقص میں شیخ بھی ہے، میں  بھی ہوں اپنے گھر تک، عتاب آنے تک کتنے مظلوم   داستاں ٹھہرے شہر میں، انقلاب آنے تک کوئی پوچھے عتاب   کانٹوں سے ناسپاسی ،  گلاب آنے تک ہم بریدہؔ  مزاج،  محفل میں  کیا کریں گے، شراب آنے تک #ندیم_بریدہؔ
 تماشا ہیں ، ستائش چاہتے ہیں کہ زخموں کی نمائش چاہتے ہیں #ندیم_بریدہؔ 
 ہم نے ماتھے کا لکھا سجدوں میں لاکھ رگڑا مٹا نہیں پائے #ندیم_بریدہؔ
 کیا کوئی راہ ، نکل سکتی ہے تیرگی ، دن میں بدل سکتی ہے  پھرگھسٹتی ہوئی افلاس کی شام اپنے پیروں پہ بھی چل سکتی ہے ایسی مایوسیوں کے سائے میں کوئی امیــــــــــــد نکل سکتی ہے  تنگ دستی و قناعتــــــ میں بھی کچھ طبیعت تو مچل سکتی ہے طــــول عمــــــری کی یہ آفت آخر  کن مناجاتـــــــــــ سے ٹل سکتی ہے    ایسی تنہـائی کـہ خــاموشی کی گـونج دنیا کو نگل سکتی ہے  خاکـــــ میں خاک ہوا خاک بدن روح کس آگـــــ میں جل سکتی ہے  #ندیم_بریدہؔ
تصویر
 بس عمر صبح شام کی
 ٹھہرا ہی نہیں آنکھ میں کاجل کی طرح جھونکا سا کوئی خواب میں آنچل کی طرح عرصہ ہوا بچھڑے ہوئے کہنے کو مگر وہ ساتھ رہا گزرے ہوئے پل کی طرح کیا خوب دلاسا ہے کہ مایوس نہ ہوں امید رہے جبرِ مسلسل کی طرح پنہاں تھا کہیں اپنے ہی پہلو میں سدا میں ڈھونڈ رہا تھا جسے پاگل کی طرح آزاد وطن کیا ہے کہ مصلوب حقوق سہمی ہے فضا وحشتِ مقتل کی طرح #ندیم_بریدہؔ

وصل دے رد غمِ ہجراں کر دے

وصل دے  رد غمِ ہجراں کر دے مضطرب ہوں منِ  یزداں کر دے رات    کو   دن   سے    بدلنے    والے  میرے حالات بھی شاداں کر دے موت  ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــ     بہتر      ہے      اگر     آ  جائے ورنہ    جینا    مجھے    آساں    کر    دے کیوں   کسی  اور کے  در   پر  جاؤں تو  ہی   اس   درد  کا  درماں کر دے میں نے کب  قیصر  و کسریٰ  مانگے  بس  شب و روز کا ساماں کر دے ایسے   افلاس   سے   مانگی تھی   پناہ  بے بسی    پیٹ کو عریاں کر دے ندیم_بریدہؔ