اشاعتیں

اپریل, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں

ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں  شہد بنتا ہے آ کر جو مگس میں  ارادہ بس میں تھا بس اور کیا تھا نہ رستہ ہے نہ منزل دسترس میں اٹھایا تھا مجھے مٹی سے تو نے سو بکھرا جا رہا ہوں خاک و خس میں میں شامل ہوں ترے ہی کارواں میں مجھے محسوس کر بانگِ جرس میں ابھی اقرار تو ہے بالسانی رہی تصدیقِ قلبی پیش و پس میں بریدہؔ اور کب تک سانس لو گے کہ دم گھٹتا نہیں اتنی ہوس میں

زندگی کیا ہے ، کیوں پریشاں ہے

زندگی کیا ہے، کیوں پریشاں ہے وصل ارماں ہے، دردِ  ہجراں ہے عمر بھر کا جنون مٹی میں جس نے گوندھا ہے وہ ہی درماں ہے زہر پھیلا ہے خون میں کیسا اپنی خواہش بھی اب لبِ جاں ہے کون منظر ہے کیا پسِ منظر دید لیلائی دل ثناء خواں ہے اشک بھی اس کے اور آنکھیں بھی آج مجھ میں یہ کون رقصاں ہے کیسا حاصل ہے جس کے پانے کو زندگی زندگی سے نالاں ہے اک بریدہؔ میں اس پہ تنہائی اور لاحق یہ فکرِ دوراں ہے ندیم بریدہؔ