ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں
ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں شہد بنتا ہے آ کر جو مگس میں ارادہ بس میں تھا بس اور کیا تھا نہ رستہ ہے نہ منزل دسترس میں اٹھایا تھا مجھے مٹی سے تو نے سو بکھرا جا رہا ہوں خاک و خس میں میں شامل ہوں ترے ہی کارواں میں مجھے محسوس کر بانگِ جرس میں ابھی اقرار تو ہے بالسانی رہی تصدیقِ قلبی پیش و پس میں بریدہؔ اور کب تک سانس لو گے کہ دم گھٹتا نہیں اتنی ہوس میں