تھا حقیقت وہ کوئی خواب نہیں

تھا حقیقت وہ کوئی خواب نہیں 

زندگی تھا کوئی سراب نہیں 

عمر بھر کھوجتے رہے گو مگر

کچھ سوالات کا جواب نہیں 

خواہشوں کی زمین بانجھ ہوئی 

چشمِ دیدہ میں کوئی خواب نہیں 

زندگی ہوگئی عذاب مگر

جی رہا ہوں کہ انتخاب نہیں 

ڈھونڈتے یاد کی کتاب میں کیا

کوئی رکھا کہیں گلاب نہیں 

اس نے لکھ دی کتاب یاد بہ یاد

بس مرے نام انتساب نہیں 

اتنا مصروف ہوں میں فرقت میں

یعنی خود کو بھی دستیاب نہیں 

تھے بریدہؔ مزاج پہلے بھی 

اب جو ہے بے دلی حساب نہیں

ندیم بریدہؔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کیا ہے ، کیوں پریشاں ہے

ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں

آنکھیں میری، خواب مگر سب اس کے تھے