دیدۂ شوق، خواب آنے تک
دیدۂ شوق، خواب آنے تک
شوخ تھی، زیرِ آب آنے تک
مضطرب ہیں، جواب آنے تک
مر نہ جائیں، جناب آنے تک
رقص میں شیخ بھی ہے، میں بھی ہوں
اپنے گھر تک، عتاب آنے تک
کتنے مظلوم داستاں ٹھہرے
شہر میں، انقلاب آنے تک
کوئی پوچھے عتاب کانٹوں سے
ناسپاسی ، گلاب آنے تک
ہم بریدہؔ مزاج، محفل میں
کیا کریں گے، شراب آنے تک
#ندیم_بریدہؔ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں