وصل دے، رد غمِ ہجراں کر دے

وصل دے ، رد غمِ ہجراں کر دے

مضطرب ہوں منِ یزداں کر دے


رات کو دن سے بدلنے والے 

میرے حالات بھی شاداں کر دے


موت  بہتر ہے ، اگر آ جائے

ورنہ  جــینا  مجھــے آساں کر دے


کیوں کسی اور کے در پر جاؤں

تو ہی اس درد کا درماں کر دے


میں نے کب قیصر و کسریٰ مانگے 

بس شب و روز کا ساماں کر دے


ایسے افلاس سے مانگی تھی  پناہ

چھینے دستار جو عریاں کر دے

#ندیم_بریدہؔ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کیا ہے ، کیوں پریشاں ہے

ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں

آنکھیں میری، خواب مگر سب اس کے تھے