زندگی کیا ہے، کیوں پریشاں ہے وصل ارماں ہے، دردِ ہجراں ہے عمر بھر کا جنون مٹی میں جس نے گوندھا ہے وہ ہی درماں ہے زہر پھیلا ہے خون میں کیسا اپنی خواہش بھی اب لبِ جاں ہے کون منظر ہے کیا پسِ منظر دید لیلائی دل ثناء خواں ہے اشک بھی اس کے اور آنکھیں بھی آج مجھ میں یہ کون رقصاں ہے کیسا حاصل ہے جس کے پانے کو زندگی زندگی سے نالاں ہے اک بریدہؔ میں اس پہ تنہائی اور لاحق یہ فکرِ دوراں ہے ندیم بریدہؔ
ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں شہد بنتا ہے آ کر جو مگس میں ارادہ بس میں تھا بس اور کیا تھا نہ رستہ ہے نہ منزل دسترس میں اٹھایا تھا مجھے مٹی سے تو نے سو بکھرا جا رہا ہوں خاک و خس میں میں شامل ہوں ترے ہی کارواں میں مجھے محسوس کر بانگِ جرس میں ابھی اقرار تو ہے بالسانی رہی تصدیقِ قلبی پیش و پس میں بریدہؔ اور کب تک سانس لو گے کہ دم گھٹتا نہیں اتنی ہوس میں
آنکھیں میری خواب مگر سب اس کے تھے بزم تھا میں، احباب مگر سب اس کے تھے ان سب کی ، پہچان لہو سے تھی میرے بچوں میں آداب مگر سب اس کے تھے بس میں نے تحریر کیا "دل" ساحل پر اس پر بھی اعراب مگر سب اس کے تھے کیا دیپک، ملہار یہ سب کیا میں تو بس اک تارا، مضرابِ مگر سب اس کے تھے میں تو بس عنوان تھا اک افسانے کا تفصیلاً ابواب مگر سب اس کے تھے سب کو تھی درپیش مسافت کہنے کو پیروں میں گرداب مگر سب اسکے تھے #ندیم_بریدہؔ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں