مضطرب دل اسی ملال میں ہے
مضطرب دل اسی ملال میں ہے سوچ محدود ماہ و سال میں ہے اک ذرا گدگدا دیا تھا بدن زندگی بس اسی خیال میں ہے روح مضطر درونِ خاکِ بدن ہجر گوندھا گیا خصال میں ہے آزمائش تونگری میں بھی پر کرب افلاس کے وبال میں ہے کون کھولے حقیقتیں کہ جہاں بحث و تکرار خود رجال میں ہے آنکھ بینا کو آئنے ہیں بہت روشنی کم مری مشال میں ہے وہ رگِ جاں سے ہے قریب مگر نقص سارا مرے سوال میں ہے دل بریدہؔ کسی کا دوش نہیں شام پھیلی ہے دن زوال میں ہے ندیم بریدہؔ