اشاعتیں

مارچ, 2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

مضطرب دل اسی ملال میں ہے

تصویر
مضطرب دل اسی ملال میں ہے سوچ محدود ماہ و سال میں ہے اک ذرا گدگدا دیا تھا بدن زندگی بس اسی خیال میں ہے روح مضطر درونِ خاکِ بدن ہجر گوندھا گیا خصال میں ہے آزمائش تونگری میں بھی پر کرب افلاس کے وبال میں ہے کون کھولے حقیقتیں کہ جہاں بحث و تکرار خود رجال میں ہے آنکھ بینا کو آئنے ہیں بہت روشنی کم مری مشال میں ہے وہ رگِ جاں سے ہے قریب مگر نقص سارا مرے سوال میں ہے دل بریدہؔ کسی کا دوش نہیں شام پھیلی ہے دن زوال میں ہے ندیم بریدہؔ 

جان تکرار کیوں ضروری ہے

جان تکرار کیوں ضروری ہے طنز ہر بار کیوں ضروری ہے لفظ اظہار کا ذریعہ ہیں پر یہ اظہار کیوں ضروری ہے جو مقدر ہے مل ہی جائے گا تو یہ بیگار کیوں ضروری ہے بولیاں ہی اگر لگانا ہیں کوئی سرکار کیوں ضروری ہے خود ہی درپے ہوں اپنے گھر کے جو ان کو غدار کیوں ضروری ہے کوئی منزل نہیں سفینے کی پھر یہ پتوار کیوں ضروری ہے ہم بریدہؔ مزاج ہیں سچ ہے پر یہ دیوار کیوں ضروری ہے ندیم بریدہؔ