اشاعتیں

رجیم تھا یا جنونِ فراق یار میں تھا

 ۔           🌸‿غزل⁀🌸 ۔     •─┅═⚪🔴⚪═┅─• رجیم   تھا  یا   جنونِ  فراقِ یار  میں تھا کسے خبر کہ  رہا  کون کس شمار میں تھا نجانے  کون  مثلث  تھا ، دائرہ  تھا کہ دل سراپا  گھوم  رہا تھا ،  کسی مدار میں تھا وہ  قافلہ  تو  کبھی  کا  گزر  چکا تھا  مگر تھا  گردِ راہ  ابھی  تک  اسی غبار میں تھا کوئی  وثوق سے دعویٰ نہیں  یہ کر سکتا  خدا کو ڈھونڈ رہا تھا کہ  یا فرار  میں تھا سبھی کا ہوگا جہاں  میں کوئی جواز مگر بلا جواز میں شامل اسی  قطار  میں   تھا بریدہؔ   لفظ   تو   اظہار    کر  نہیں سکتے کہ ایسا روگ  لگا  اس  دلِ فگار میں   تھا ندیم بریدہؔ 

کون بیٹھے دل بیزار کے ساتھ

 ۔ ـ۔ ــــــــــــــ غزل ـــــــــــــــ ۔ کون بیٹھے دلِ بیزار کے ساتھ ۔ ایک گرتی ہوئی دیوار کے ساتھ ۔ ہم رہے تیرے بھروسے، نہ چلے   ۔ بھاگتے وقت کی رفتار کے ساتھ ۔ دائرے بنتے رہــے ڪــــاغــذ پر ۔ خط بنا ہی نہیں پرکار کے ساتھ ۔ لمحہ لمحہ تھایہ جینا بھی عذاب ۔ ایسے دیمک زدہ آکار کے ساتھ   ۔ موت کا دکھ نہیں، تکلیف یہ تھی ۔ سر جو کاٹا گیا دستار کے ساتھ ۔ مول یوں بھی نہیں لگتا کہ ہمیں ۔ چلنا آتا نہیں با ز ا ر کے ساتھ ۔ جب خبر ہی نہ رہی ساحل کی ۔ ناخدا کیا کرے پتوار کے ساتھ   ۔ سب طرف دار نئے دور کے تھے ۔ ہم کہ چمٹے رہے اقدار کے ساتھ    ۔ کاہے ر و نا ہے، بریدہ کہ پھرو ۔ بوجھ لادھے، دلِ مسمار کے ساتھ  #ندیم_بریدہؔ

تھا حقیقت وہ کوئی خواب نہیں

تھا حقیقت وہ کوئی خواب نہیں  زندگی تھا کوئی سراب نہیں  عمر بھر کھوجتے رہے گو مگر کچھ سوالات کا جواب نہیں  خواہشوں کی زمین بانجھ ہوئی  چشمِ دیدہ میں کوئی خواب نہیں  زندگی ہوگئی عذاب مگر جی رہا ہوں کہ انتخاب نہیں  ڈھونڈتے یاد کی کتاب میں کیا کوئی رکھا کہیں گلاب نہیں  اس نے لکھ دی کتاب یاد بہ یاد بس مرے نام انتساب نہیں  اتنا مصروف ہوں میں فرقت میں یعنی خود کو بھی دستیاب نہیں  تھے بریدہؔ مزاج پہلے بھی  اب جو ہے بے دلی حساب نہیں ندیم بریدہؔ 

وصل دے، رد غمِ ہجراں کر دے

وصل دے ، رد غمِ ہجراں کر دے مضطرب ہوں منِ یزداں کر دے رات کو دن سے بدلنے والے  میرے حالات بھی شاداں کر دے موت  بہتر ہے ، اگر آ جائے ورنہ  جــینا  مجھــے آساں کر دے کیوں کسی اور کے در پر جاؤں تو ہی اس درد کا درماں کر دے میں نے کب قیصر و کسریٰ مانگے  بس شب و روز کا ساماں کر دے ایسے افلاس سے مانگی تھی  پناہ چھینے دستار جو عریاں کر دے #ندیم_بریدہؔ

آنکھیں میری، خواب مگر سب اس کے تھے

آنکھیں میری خواب مگر سب اس کے تھے  بزم تھا میں، احباب مگر سب اس کے تھے ان سب کی ، پہچان لہو سے تھی میرے بچوں میں آداب مگر سب اس کے تھے بس میں نے تحریر کیا "دل" ساحل پر اس پر بھی اعراب مگر سب اس کے تھے کیا دیپک، ملہار یہ سب کیا میں تو بس اک تارا، مضرابِ مگر سب اس کے تھے میں تو بس عنوان تھا اک افسانے کا تفصیلاً ابواب مگر سب اس کے تھے سب کو تھی درپیش مسافت کہنے کو پیروں میں گرداب مگر سب اسکے تھے #ندیم_بریدہؔ
 اب نہیں ہوگی محبت کی تجارت مجھ سے میری تحــــــــــــریر سراہو نہ سراہو چاہے #ندیم_بریدہؔ

دیدۂ شوق، خواب آنے تک

 دیدۂ شوق،  خواب آنے تک شوخ تھی، ز یرِ آب آنے تک مضطرب ہیں، جواب   آنے تک مر نہ جائیں،  جناب آنے تک رقص میں شیخ بھی ہے، میں  بھی ہوں اپنے گھر تک، عتاب آنے تک کتنے مظلوم   داستاں ٹھہرے شہر میں، انقلاب آنے تک کوئی پوچھے عتاب   کانٹوں سے ناسپاسی ،  گلاب آنے تک ہم بریدہؔ  مزاج،  محفل میں  کیا کریں گے، شراب آنے تک #ندیم_بریدہؔ