ٹھہرا ہی نہیں آنکھ میں کاجل کی طرح

جھونکا سا کوئی خواب میں آنچل کی طرح

عرصہ ہوا بچھڑے ہوئے کہنے کو مگر

وہ ساتھ رہا گزرے ہوئے پل کی طرح

کیا خوب دلاسا ہے کہ مایوس نہ ہوں

امید رہے جبرِ مسلسل کی طرح

پنہاں تھا کہیں اپنے ہی پہلو میں سدا

میں ڈھونڈ رہا تھا جسے پاگل کی طرح

آزاد وطن کیا ہے کہ مصلوب حقوق

سہمی ہے فضا وحشتِ مقتل کی طرح

#ندیم_بریدہؔ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کیا ہے ، کیوں پریشاں ہے

ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں

آنکھیں میری، خواب مگر سب اس کے تھے