آنکھیں میری، خواب مگر سب اس کے تھے

آنکھیں میری خواب مگر سب اس کے تھے 

بزم تھا میں، احباب مگر سب اس کے تھے

ان سب کی ، پہچان لہو سے تھی میرے

بچوں میں آداب مگر سب اس کے تھے

بس میں نے تحریر کیا "دل" ساحل پر

اس پر بھی اعراب مگر سب اس کے تھے

کیا دیپک، ملہار یہ سب کیا میں تو بس

اک تارا، مضرابِ مگر سب اس کے تھے

میں تو بس عنوان تھا اک افسانے کا

تفصیلاً ابواب مگر سب اس کے تھے

سب کو تھی درپیش مسافت کہنے کو

پیروں میں گرداب مگر سب اسکے تھے

#ندیم_بریدہؔ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کیا ہے ، کیوں پریشاں ہے

ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں