کون بیٹھے دل بیزار کے ساتھ

 ۔ ـ۔ ــــــــــــــ غزل ـــــــــــــــ


۔ کون بیٹھے دلِ بیزار کے ساتھ


۔ ایک گرتی ہوئی دیوار کے ساتھ


۔ ہم رہے تیرے بھروسے، نہ چلے

 

۔ بھاگتے وقت کی رفتار کے ساتھ


۔ دائرے بنتے رہــے ڪــــاغــذ پر


۔ خط بنا ہی نہیں پرکار کے ساتھ


۔ لمحہ لمحہ تھایہ جینا بھی عذاب


۔ ایسے دیمک زدہ آکار کے ساتھ

 

۔ موت کا دکھ نہیں، تکلیف یہ تھی


۔ سر جو کاٹا گیا دستار کے ساتھ


۔ مول یوں بھی نہیں لگتا کہ ہمیں


۔ چلنا آتا نہیں با ز ا ر کے ساتھ


۔ جب خبر ہی نہ رہی ساحل کی


۔ ناخدا کیا کرے پتوار کے ساتھ

 

۔ سب طرف دار نئے دور کے تھے


۔ ہم کہ چمٹے رہے اقدار کے ساتھ 

 

۔ کاہے ر و نا ہے، بریدہ کہ پھرو


۔ بوجھ لادھے، دلِ مسمار کے ساتھ 


#ندیم_بریدہؔ

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کیا ہے ، کیوں پریشاں ہے

ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں

آنکھیں میری، خواب مگر سب اس کے تھے