زندگی کیا ہے ، کیوں پریشاں ہے

زندگی کیا ہے، کیوں پریشاں ہے
وصل ارماں ہے، دردِ  ہجراں ہے
عمر بھر کا جنون مٹی میں
جس نے گوندھا ہے وہ ہی درماں ہے
زہر پھیلا ہے خون میں کیسا
اپنی خواہش بھی اب لبِ جاں ہے
کون منظر ہے کیا پسِ منظر
دید لیلائی دل ثناء خواں ہے
اشک بھی اس کے اور آنکھیں بھی
آج مجھ میں یہ کون رقصاں ہے
کیسا حاصل ہے جس کے پانے کو
زندگی زندگی سے نالاں ہے
اک بریدہؔ میں اس پہ تنہائی
اور لاحق یہ فکرِ دوراں ہے
ندیم بریدہؔ 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں

آنکھیں میری، خواب مگر سب اس کے تھے