ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں
ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں
شہد بنتا ہے آ کر جو مگس میں
ارادہ بس میں تھا بس اور کیا تھا
نہ رستہ ہے نہ منزل دسترس میں
اٹھایا تھا مجھے مٹی سے تو نے
سو بکھرا جا رہا ہوں خاک و خس میں
میں شامل ہوں ترے ہی کارواں میں
مجھے محسوس کر بانگِ جرس میں
ابھی اقرار تو ہے بالسانی
رہی تصدیقِ قلبی پیش و پس میں
بریدہؔ اور کب تک سانس لو گے
کہ دم گھٹتا نہیں اتنی ہوس میں
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں