میں ہی ٹوٹی ہے ، کاش باقی ہے

 احباب ذوق کی بصارتوں کی نذر

  غزل


میں ہی  ٹوٹی ہے ، کاش  باقی ہے

خود میں خود کی تلاش باقی ہے


ہجر   نے  پھر   مجھے  تسلی  دی

عمر  باقی  ہے ، تاش  باقی  ہے


مٹ  گئی  ہر  لکیر ،  ہاتھوں سے

بس  جبیں  پر ، خراش  باقی ہے


ہم  ترے  ساتھ  مر  چکے  کب کے

چلتی  پھرتی  یہ  لاش  باقی  ہے


ایک  باقی  ہے  ، رفتگاں  کا  دکھ

ایک  فکرِ  معاش باقی  ہے

ندیم بریدہؔ


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

زندگی کیا ہے ، کیوں پریشاں ہے

ہے کیسا کیمیا پھولوں کے رس میں

آنکھیں میری، خواب مگر سب اس کے تھے